Please use this identifier to cite or link to this item: http://prr.hec.gov.pk/jspui/handle/123456789/9535
Title: پاکستان میں معذوری کے خطرے سے دوچار بچوں کی ابتدائی تشخیص اور معاون خدمات
Other Titles: Pakistan Men Mazoori Kay Khatray Say Dochar Bachon Ki Ibtedai Tashkhees Aur Muawan Khidmat
Early Identification and Interventional Services to At-Risk Children in Pakistan
Authors: اختر, ثناء
رزاق, نادیہ
Akhtar., Sana
Razzaq, Nadia
Keywords: Special Children
Special Education
Issue Date: 2018
Publisher: Higher Education Commission – Pakistan
Abstract: ابتدائی مداخلتی اور معاون خد ما ت کی فراہمی نہ صرف پا کستان میں موجود معذور / خصوصی بچوں جوکہ اپنی عمر کے ابتدائ ادوار میں ہوں کیلئے مدد کا باعث بنے گی۔ بلکہ انُ بچوں، جو کہ کسی بھی معذوری کا شکار ہونے کے حالات میں گھرے ہوں انُ کے لیئے بھی سہولت اور سکون کی خبر ثا بت ہو گی۔ابتدائی مدا خلتی خدما ت کی فراہمی سے نہ صرف معذوری کی شرح میں کمی کا باعث ہو گی بلکہ اس عمل کی مدد سے معذوریوں کی شد ت میں کمی کو بھی ممکن بنایا جاسکے گا۔ گو کہ ابتدائی مداخلتی خدما ت سے متعلق نقات پاکستان کی معذور افراد کی پا لیسی میں بھی شامل ہیں۔ لیکن اس کے با وجود عام افراد، خصوصی بچوں کے والدین اور خصوصی تعلیم سے جڑے دیگر ماہرین میں اس عمل سے متعلق آگہی کی شرح بہت کم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری سطح پرایسی مہم کا آغاز کیا جائے کہ جس کے ذریعےابتدائی عمل کی آگہی فراہم کی جائے۔ اس کتاب کی تیاری بھی ان خدمات کے بارے میں آگہی اور فراہمی کی ایک چھوٹی سی کاوش ہے۔ اس کتاب میں شامل تمام ابواب کی ترتیب اس طرح کی گئی ہے کہ پڑھنے والے کی معلومات میں درجہ بدرجہ اضافہ ہو اور وہ ابتدائی مداخلتی عمل سے جڑے تمام متغیرات کے بارے میں بخوبی جان سکیں۔ یہ کتاب کل دس ابواب پر مشتمل ہے لیکن طلباء میں ابتدائی مداخلتی خدمات سے جڑے تصورات کی مکمل آگہی کے لیے اس کو تین درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کے پہلے درجے میں ابتدائی مداخلتی خدمات کا تعارف، تاریخ اور انُ ماہرین کی معلومات کو شامل کیا گیا ہے جو کہ انِ خدمات کی فراہمی کے موجد بنے۔ ابتدائی مداخلتی پروگرام چونکہ خاص طور پر انُ بچوں کے لیے ہے جو عمر کہ ابتدائی دور میں ہوں یعنی کہ 0-5 سال کی عمرکے درمیان۔ لہذا طلباء کی آسانی کے لیے کتاب کے پہلے حصے میں ہی بچوں کی نشونما اور اس سے جڑے دیگر تصورات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ کتاب کے دوسرے حصے میں ابتدائی مداخلت کی خدمات کے حصول کو یقینی بنانے میں منتخب کئے جا سکنے والے نمونوں، والدین اور دیگر ماہرین کے کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ابتدائی مداخلت میں والدین کی اہمیت کو واضع کرنے کے لیئے، خصوصی طور پر کراچی میں رہنے والے خصوصی بچوں کے والدین کی مدد سے ایک مختصر تحقیق کی گئ اور انُ کی ابتدائی مداخلت کے عمل کے متعلق آگہی کی شرح کو والدین کے کردار کے باب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس باب کے ذریعے طلباء کو زمینی حقائق سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اس کتاب کی تیاری کا مقصد ابتدائی مداخلتی عمل سے متعلق محض معلومات کے فراہمی ہی نہیں بلکہ کتاب کی تیاری کے دوراس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ طلباء نہ صرف تمام خدمات سے آگاہ ہوں بلکہ ساتھ ہی وہ خصوصی بچوں اور انُ کے والدین کے لیے انِ تمام خدمات کا منصوبہ بھی تیار کر سکیں۔ لہذا کتاب کے تیسرے حصے میں طلباء کے رہنمائی کے لیے خصوصی تعلیم میں استعمال ہونے والےتین بنیادی منصوبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ پاکستان میں چونکہ ابتدائی مداخلتی خدمات کا تصورعام نہیں ہے اور ترقی پذیر ملک ہونے کی وجہ سے انِ خدمات کی فراہمی میں مشکلا ت کا سامنا بھی ہے۔ اسی مشکل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کتاب کے آخری حصے میں خدمات کی فراہمی کا ایک منصوبہ بھی شامل کیا گیا ہے جو کہ خا لصتآَ مصنفین کی ذاتی سوچ پر مبنی ہے۔ مصنفین کی رائے میں اگر اربابِ اختیاراس منصوبے پر عملدرآمد کرتے ہوئے ابتدائی مداخلتی خدمات کی فراہمی کے لئے پلان دیں تو محدود ذرائے کے باوجود ایک ٹھوس منصوبہ قا بلِ عمل بنایا جا سکتا ہے۔
URI: http://prr.hec.gov.pk/jspui/handle/123456789/9535
ISBN: 978-969-417-207-1
Appears in Collections:Monographs.

Files in This Item:
File Description SizeFormat 
پاکستان میں معذوری کے خطرے.pdf2.85 MBAdobe PDFView/Open


Items in DSpace are protected by copyright, with all rights reserved, unless otherwise indicated.