Please use this identifier to cite or link to this item: http://prr.hec.gov.pk/jspui/handle/123456789/15057
Title: Accordance in Tafseer Contradictions in the Light of Asbab-e-Nazool and Nazm-e-Quran
Authors: Hussain, Mazhar
Keywords: Social Sciences
Islamic Studies
Issue Date: 2020
Publisher: University of the Punjab , Lahore
Abstract: الحمد لله الذی انزل الفرقان علی عبده لیکون للعالمین نذیرا، نحمده و نستعینه و نستغف ر ه و نستهدیه، و نعوذ بالله من ، شرور انفسنا و من سیئات اعمالنا، من یهدیه الله فلا مضل له، و من یضلله فلا هادی له۔ و نشهد ان لا اله الا الله و نشهد ان محمدا عبده و رسوله صلی الله علیه ل آ ٰ و علی ه و اصحابه و اتباعه الی یوم الدین۔ اما بعد: موضوع کا تعارف و اہمیت: قرآن مجید اللہ کا کلام ہےجو اللہ نے انے حبیب حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا ۔ یہ کتاب تمام انسانیت کے لئے ہدایت اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الاسراءمیں فرماتا ہے۔ ﴿ ُ مَ وْ قَ أ َ يِ ه ِ تَِّ لِ ي ل ِ دْ هَ يَ آن ْ رُ قْ ا ال َ ذَ هَّ نِ 1 ﴾ إ " یقیناً یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا ہے ۔" یہ قرآن ہمیں سیدھے راستے کی رحف ہدایت دیتا ہے۔ اس ہدایت و رہنمائی کو واضح کرنے کے لئے اس کی تفسیر کا علم ددون کیا گیا ہے۔ تاکہ قرآن مجید کو صحیح طور پر سمجھا جا کے اور اس سے ہدایت و رہنمائی حال کی جا کے ۔ مختلف مفسرین نے قرآن مجید کی تفسیر مختلف انداز اور رحیقوں سے کی ہے۔ اس میں انہوں نے انے انے دور، احوال اور ذوق کے مطابق مختلف مناہج اختیار ئے ہیں۔ جس کی وہ سے تفسیر میں مفسرین کے مختلف اقوال ملتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں تفسیر میں اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں۔ جب عام قاری ان مختلف اقوال و آراء اور مختلف تفاسیر کو دکھتا ہے تو پریشان ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ان اقوال و آراء میں تعارض اور تناقض پایا جاتا ہے۔ وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ تفسیر میں بہت زیادہ اختلافات ہیں اور ان میں تضادات ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا کلام "قرآن مجید" تو ایک ہی ہے، پھر اس کی تفسیر میں اتنا زیادہ اختلاف کیوں ہے؟ اس مقالے میں اسی مسئلے کو حل کیا گیا ہے۔ اس مقالے کا موضوع "تفسیر ی اختلافات میں تطبیق-اسباب نزول اور نظم قرآن کے تناظر میں" ہے۔ اس مقالے میں تفسیر ی اختلافات کی حقیقت بیان کی گئی ہے اور ان کے درمیان تطبیق پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہےتاکہ تفسیر میں جو ظاہری طور پر تعارض اور اختلافات پائے جاتے ہیں ان کو حل کیا جائے اور لوگوں کے ذہنوں سے اس اشکال کو بھی دور کیا جائے کہ تفسیر میں بہت زیادہ اختلافات ہیں۔ تفسیری اختلافات کے مختلف پہلو اور اسباب ہیں۔ ان میں سے ایک "اسباب نزول "اور دوسرا "نظم قرآن "ہے۔تفسیر میں اسباب نزول کے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایک ہی آیت کے سبب نزول میں متعدد روایات وارد ہوتی ہیں۔ عام قاری جب ان روایات کو دکھتا ہے تو وہ پریشان ہو جاتا ہے کہ ان میں سے کونسی روایت آیت کا سبب نزول ہے؟ نتیجے کے طور پر ہو ہے ہے کہ وہ سبب نزول کو چھوڑ دے۔ لہذا اس مقالے میں اسباب نزول کے اختلافات کو حل کیا گیا ہے تاکہ اسباب نزول کے بارے میں پائی جانے والی الجھن سے ہمارا ذہن صاف ہو کے ۔ 9 :17 ۔ الاسراء، 1 ) iv( نظم قرآن میں بھی مختلف تصورات اور انداز ہیں۔ موجودہ دور میں نظم قرآن پر بہت زیادہ کام ہو رہا ہے۔ مختلف مفسرین نے نظم قرآن پر مختلف رحیقوں سے کام کیا ہے جس کے نتیجے میں اس کے مختلف تصورات سامنے آتے ہیں۔ بعض اوقات نظم قرآن کے ایک تصور کو دوسرے لوگ قبول کرنے کے لئے یارر نہیں ہوتے جس کی وہ سے اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ اس مقالے میں نظم قرآن کے مختلف تصورات کے درمیان تطبیق پیدا کی گئی ہے تاکہ نظم قرآن کے درمیان اختلاف کو حل کیا جا کے ۔ فراہی مکتبہ فکر کے مفسرین کے نزدیک اسباب نزول اور نظم قرآن میں شدید اختلاف ہے۔ وہ ان کو ایک دوسرے کی ضد سمجھتے ہیں۔وہ اسباب نزول کو نظم قرآن میں رکاو سمجھتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ اسباب نزول کو چھوڑ دیتے ہیں اور نظم قرآن کے مطابق تفسیر کرتے ہیں۔جس کی وہ سے اسباب نزول کے سرمایہ علم سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس جمہور مفسرین اسباب نزول اور نظم قرآن دونوں کو اہمیت دیتے ہیں اور ان میں سے سی ایک کو بھی ک ن نہیں کرتے ۔ اس مقالے میں اسباب نزول اور نظم قرآن کے انہی اختلافات کا جازہہ یا گیا ہے۔ فراہی مکتبۂ فکر کے مفسرین کا یہ موقف ہے کہ نظم قرآن کی ددد سے تفسیری اختلافات کو حل کیا جا ہے ہے۔ان کے مطابق روایتی انداز تفسیر کے تحت تفسیر میں موجود اختلافات کے درمیان اتفاق ممکن نہیں ہے۔ ان اختلافات سے چنے کا ایک ہی رحقہ ہے کہ قرآن مجید کی تفسیر نظم قرآن کے مطابق کی جائے، اگر نظم قرآن کی رونی میں تفسیر کی جائے تو ایک متفقہ تفسیر سامنے آئے گی۔ اس لئے یہ مفسرین مختلف اقوال و آراء اور تفاسیر کو چھوڑ کر نظم قرآن کے مطابق تفسیر کرتے ہیں۔ اس مقالے میں ان کے اس نظریے کا جازہہ یا گیا ہے کہ نظم قرآن کی ددد سے تفسیری اختلافات کو حل کیا جا ہے ہے یا نہیں ؟ فراہی مکتبۂ فکر کے مفسرین کا موقف یہ ہے کہ نظم قرآن کی ددد سے اسباب نزول کے تفسیری اختلافات کو بھی حل کیا جا ہے ہے۔ اس مقالےمیں ان کے اس نظریے کا جازہہ یا گیا ہے اور اس بات کا بھی جازہہ یا گیا ہے کہ کیا وہ انے اس موقف میں کامیاب ہوئےہیں یا نہیں؟ اور کیا نظم قرآن کی ددد سے اسباب نزول کے تفسیری اختلافات کو حل کیا جا ہے ہے یا نہیں ؟ اس مقالے میں اسباب نزول اور نظم قرآن کے اختلاف میں فراہی مکتبۂ فکر کو اس لئے بنیاد بنایا گیا ہے کیونکہ اسباب نزول اور نظم قرآن کا زیادہ شدت سے اختلاف صرف ان کے ہاں پایا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ جمہور مفسرین کے ہاں اس اختلاف کو کوئی اہمیت حال نہیں ہے۔ اس لئے اس کو عام رھنے کی جائئے فراہی مکتبہ فکر کو بنیاد بنا یا گیا ہے تا کہ اس اختلاف کا صحیح رحیقے سے جازہہ یا جا کے ۔ کا انتخاب کیا گیا ہے جو مولانا حمید الدین فراہی ﷫ ا س مقالے میں فراہی مکتبۂ فکر کی ائندگیگی کرنے کے لئے مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنا نظریہ پیش کیا لیکن اس کے مطابق وہ اپنی تفسیر مکمل نہ کر کے ۔ ﷫ کے شاگرد ہیں۔ اس کی وہ یہ ہے کہ مولانا فراہی ﷫ نے پیش کیا تھا اور اس نظریہ کے مطابق اپنی تفسیر "تدبر قرآن" ﷫ان کے نظریےکو عملی صورت میں مولانا امین احسن اصلاحی کے نظریے کو پیش کیا ﷫ مکمل کی ۔ لہذا جہاں پر فراہی مکتبہ فکر کے نظریے کو پیش کیا گیا ہے وہاں پر صرف مولانا امین احسن اصلاحی گیا ہے جو درال فراہی مکتبہ فکر کا ہی نظریہ ہے۔ کیونکہ صد ص صرف فراہی مکتبہ فکر کا اسباب نزول اور نظم قرآن کے بارے میں موقف بیان کرنا ہے، نہ کہ ان کے سارے مکتبہ فکر کے نظریات کو بیان کرنا۔ اس بحث کا موضوع "فراہی مکتبہ" فکر نہیں بلکہ "تفسیری کے نظریات کو پیش کیا گیا ہے۔ ﷫ اختلافات" ہے۔ اس لئے فر
Gov't Doc #: 20293
URI: http://prr.hec.gov.pk/jspui/handle/123456789/15057
Appears in Collections:PhD Thesis of All Public / Private Sector Universities / DAIs.

Files in This Item:
File Description SizeFormat 
Mazhar hussain islamic Study 2020 uop lhr prr.pdfphd.Thesis10.35 MBAdobe PDFView/Open


Items in DSpace are protected by copyright, with all rights reserved, unless otherwise indicated.